ہفتہ 7 فروری 2026 - 15:12
شیعہ ہونا جرم؟ پاکستان میں مسلکی دہشت گردی کا خون آلود چہرہ

حوزہ/ہمیشہ کی طرح، ایک بار پھر عبادت گاہ کو نشانہ بنایا گیا؛ جمعہ کی نماز ادا کی جا رہی تھی، نمازی صف آراستہ تھے، اللہ کے حضور سربسجود، محوِ عبادت، مگر کسی کو تکلیف ہوئی میرا مطلب ہے دہشت گرد کو۔ میں یہ نہیں کہتا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب ہوتا ہے؛ مگر کم از کم اس حالیہ بم دھماکے کے تناظر میں یہ واضح طور پر کہہ سکتا ہوں کہ یہ’’ مذہبی اشتعال انگیزی پر مبنی دہشت گردی ‘‘ہے۔

تحریر: عظمت علی

حوزہ نیوز ایجنسی| ہمیشہ کی طرح، ایک بار پھر عبادت گاہ کو نشانہ بنایا گیا؛ جمعہ کی نماز ادا کی جا رہی تھی، نمازی صف آراستہ تھے، اللہ کے حضور سربسجود، محوِ عبادت، مگر کسی کو تکلیف ہوئی میرا مطلب ہے دہشت گرد کو۔ میں یہ نہیں کہتا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب ہوتا ہے؛ مگر کم از کم اس حالیہ بم دھماکے کے تناظر میں یہ واضح طور پر کہہ سکتا ہوں کہ یہ’’ مذہبی اشتعال انگیزی پر مبنی دہشت گردی ‘‘ہے۔

یہاں مذہب اور مسلک کا کردار مرکزی ہے۔ کب تک ہم ’’شدت پسندی‘‘ اور ’’کالعدم تنظیم‘‘جیسے مبہم الفاظ کی آڑ میں مجرموں کو کور فراہم کرتے رہیں گے؟

اسلام کے ماننے والے شیعہ اپنی مسجد میں عبادت کر رہے تھے کہ کسی ’’پکے مسلمان‘‘ کو جنت کی للک پیدا ہوئی، اور اس نے تیس سے زائد انسانوں کو بم سے اڑا دیا۔ اب عبادت گاہ خون سے لت پت ہے۔ مسجد ہے، مگر نمازی اللہ کے پیارے ہو چکے۔ مصلّے ہیں، مگر سجدہ گزار شہید ہو چکے۔ فرشِ مسجد پر کچھ شیعہ اب بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں، خون میں لت پت۔ ان کے گھر ویران ہو چکے ہیں۔ مائیں نوحہ کناں ہیں، یتیم بچوں کی آنکھوں میں آنسو رواں ہیں، اور کسی گوشے میں ایک بیوہ اپنی بے سروسامانی کے ساتھ حسرت و یاس میں ڈوبی بیٹھی ہے۔ کسی کے پاس کہنے کو کچھ نہیں۔

باہر ایک آواز چیخ رہی ہے: ہماری خطا کیا ہے؟ یہی کہ ہم سجدہ گزار ہیں اور شیعہ بھی؟

سچ تو یہی ہے کہ آپ شیعہ سجدہ گزار ہیں۔

’’شیعہ، شیعہ کافر!‘‘

ہمیں کافر کہہ کر، خود کومسلمان کہلا کر، ہمارا قتل عام کیا جا رہا ہے۔

کیا یہ اسی نبی کو نہیںمانتے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اپنے جانی دشمن مشرکین مکہ کے بارے میں فرمایا تھا کہ:’’آج انتقام کا دن نہیں، بلکہ رحم و کرم کا دن ہے۔‘‘

اور تم ہو کہ اسی نبی کے امتی کو قتل کر رہے ہو!لعنت ہو ایسے طرزِ فکر پر اور ایسی درندگی پر!

کیا ان کے پاس بھی وہی قرآن نہیں جس میں صاف لفظوں میں کہا گیا ہے کہ بغیر جرم و خطا ایک انسان کا قتل، پوری انسانیت کا قتل ہے؟ اگر یہ دہشت گردی نہیں تو پھر دہشت گردی کسے کہتے ہیں؟

ہم ببانگ دہل کہیں گے کہ ہاں، شیعوں کو مسلمانوں نے قتل کیا ہے۔ شیعوں کے قاتل مسلمان ہیں۔ مگر یہ وہ مسلمان ہیں جن کا حقیقتاً دین اسلام، اللہ، قرآن اور انسانیت سے کوئی واسطہ نہیں۔ انہیں بس حوریں چاہئیں اور جنت۔ ہم تو یہی کہیں گے:

ایسی جنت کا کیا کرے کوئی

جس میں انسانیت کے مجرم ہوں

یہ مسلمان نہیں، یہ شہوت کے اسیر ہیں۔ یہ انسان نہیں، درندہ صفت انسان ہیں۔ ان کا دنیا میں بس ایک مقصد ہے: شیعوں کا قتل اور اس کے بدلے جنت و حور کا خواب۔

ان سب کے درمیان ایک سوال بار بار سر اٹھاتا ہے:

شیعہ قتل عام، شیعہ نسل کشی صرف پاکستان میں ہی کیوں اور وہ بھی مسلمانوں کے ہاتھوں؟

اور پھر، اتنے دردناک سانحات کے بعد امت مسلمہ کا سرد اور کمزور احتجاج ،کیوں؟

کیا ہم واقعی مسلمان نہیں؟

چلیے، مسلمان نہ سہی ،انسان تو ہیں نا؟

پھر دنیا خاموش کیوں رہتی ہے؟ دنیا سے گلہ شاید بے سود ہو، مگر مسلمان خاموش کیوں ہیں؟

یہ خاموشی اگر شریک جرم نہیں، تو پھر اور کیا ہے؟

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha